یہ تو فرما دو ہوں ایسا میں کیا بد نظرا
دیکھ مجھ کو جو چھپاتے وہ بدن شال سے خوب
حافظ صاحب حسن پرست ناظر حسن تھے یا بد نظر نظر باذ.
(۱۹۳۹، مطالعہ حافظ، ۱۳۲)
اسم کیفیت : بدنظری.
-
اکثر آدمی ... بد نظری کی قید سے نہ چھوٹ کر فسق کا نام عشق رکھتے ہیں.
(۱۸۰۵، جامع الاخلاق، ۱۸۷)
ان احکام نے بد نظری کوذنا کے برابر قرار دیدیا.
(۱۹۰۴، مقالات شبلی ، ۱۲۵:۱)
[ بد + نظر (رک) / + ۱، لاحقۂ صفت ]
