بھلا تو تو اے کافر بند قریں
مسلمان کہتا تھا اپنے تئیں
اری منھ سے کیوں نہیں بولتی ہے بد قرینہ ، اٹھ اس جگہ سے .
(۱۹۳۵، آغا حشر، اسیر حرص، ۳۶)
اسم کیفیت : بد قرینگی .
اگر شوکت لفظی بد قرینگی کے ساتھ ہے . . . تو ایسی شوکت لفظی شخص محصل کی آنکھ میں بدنما معلوم ہوگی .
( ۱۸۹۷، کاشف الحقائق، ۷۲ )
[ بد + قرین / قرینہ ( رک ) ]
