زمانہ ہو بد مہر کرتا قہر
دینا مجکو تریا ک سودیتا زہر
سورج سے روشنی کے سوا اور کیا ہے
بد مہر سے بدی کے سوا اور کیا ہے
اسم کیفیت : بد مہری .
-
دل اس مہر تھے اپنا آزادکر
یکیک دل میں بد مہری اس یاد کر
بد مہری گردوں سے مگر چاک جگر ہے
یوں اس نے جلایا ہے کہ دل شمع سحر ہے.
[ بد + مہر ( رک ) ]
