لوگ بد وضع کہیں گے تم کو
میلے ٹھیلے کبھی جایا نہ کرو
یہاں مسلمان مرد عموماً آوارہ ہیں مگر کوئی عورت بد وضع نہیں۔
(۱۹۱۲، روزنامچہ سیاحت ، ۳ : ۲۷۶)
واللہ تیرے گھر کی طرف منھ نہ کروں میں
بد وضع رقیبوں کی طرح تو نہیں ہوں میں
یہ ظلم ہے نہایت دشوار ترکہ خوباں
بد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں
عامیانہ مذاق کے مضامین ۔ ۔ ۔ اس وجہ سے درج نہیں کیے جاتے کہ خریدار فوراً ٹوک دیتے ہیں ، ، ، کہ یہ کیا بدوضعی ہے۔
(۱۹۳۲ ’اودھ پنچ ‘ لکھنو ، ۱۷ ، ۲ : ۹)
[ بد + وصع ( رک ) ]
