توبہ ایسا گباہ توبہ
تم کتنے ہو بد گناہ توبہ
واری آج بڑا نمک حرام قتل ہوا ، ہم سب کو ستایا کرتا تھا بڑا بد نگاہ تھا.
(۱۹۰۲ . طلسم نوخیز جمشیدی ، ۳ : ۲۹۴)
اسم کیفیت : بد نگاہی .
(۱۹۰۲ ، طلسم نوخیز جمشیدی ، ۳ : ۲۹۴)
اول کہی بد نگاہی اپنی
بعد اس کے وہ سب تباہی اپنی
کھب گئی جس آنکھ میں تو مثل نور بد نگاہی سے رہی وہ آنکھ دور
(۱۹۱۱، کلیات اسماعیل ، ۴۸ٖ)
[ بد + نگاہ (رک) ]
