آج ایک سال ہے کہ دل ہجراں کے کوٹ میں بہت بد حال ہے .
(۱۶۳۵، سب رس ، ۲۶۰)
نظر لطف کہاں ہوتی ہے بد حالوں پر
کون الزام ہے ان حسن کے متوالوں پر
اسم کیفیت : بدحالی.
-
پھر حد سے ہوی افزوں بے چارگی بدحالی
تو نے بھی قلم اپنے ہاں ہاتھ سے گر ڈالی
[ بد + حال (رک) ]
