خوباں کی صحبت اسے اثر نہیں کری، بد ذات حرام خور چور مکر بھری.
(۱۶۳۵، سب رس، ۲۳۷)
بد ذات آدمیوں میں اس کا ظہور دوسری طرح ہوتا ہے
(۱۸۷۶، تہذیب الاخلاق ، ۲؛ ۱۰۳)
کسی بد ذات سے پالا پڑا، اٹھتے جوتی، بیٹھتے لات
(۱۹۳۶، راصد الخیری ، نالہء زار، ۳۱)
پھر اس بت بد ذات کی دکھلائے جوانی
یہ بات ہے ذات فلک پیر سے باہر
نہیں وہ بے چارہ چپکا ہے، یہ ہے بد ذات .
(۱۹۴۷، دھانی بانکیں ، ۱۱)
سو اس کو ظلم ستی مل کے شامی بد ذات
کیے شہید ہزاروں جفا ستی ہیہات
ان بد ذاتوں کو حق میں خاص کر اس وقت شیرنی سے کم نہ تھی .
(۱۸۸۵، فسانہ مبتلا ، ۴۷)
شکیلہ جانے دے، بڑی بدذات ہے لڑتی دن رات ہے.
(۱۹۰۱، عشق و عاشقی کا گنجینہ، ۳۱)
شور درباں نہ کریں دور سے دیکھیں جو مجھے
پاس اتنا بھی یہ بد ذات نہیں کرتے ہیں
یہ عفریت بدسرشت . . . مجھے اڑا لایا تھا بے خبری میں بد ذات بھگا لایا تھا.
(۱۹۰۱، الف لیلہ، سرشار، ۱۵)
ترے آگے بری ہے دخت رز اے شیخ پر خوبی
جو کچھ رکھتی ہے یہ بدذات کہنے میں نہیں آتی
اسم کیفیت : بدذاتی.
-
بدی کرنے والا حرامزدگی اور بد ذاتی نہ چھوڑیں گے.
( ۱۸۰۳، گنج خوبی، ۴۰ )
یہ کنیز ایک بڑی مکار بڑھیا تھی اور بد ذاتی نہ کرنا اس کے مذہب میں جائز نہ تھا .
(۱۹۴۱، الف لیلہ و لیلہ، ۲: ۳۳۰)
[ بد + ذات ( رک ) ]
