چلتا نہیں ہے ابلق ایام ایک چال
کتنا یہ بد رکاب بنا اور بگڑ گیا
راکب جو بد سرشت تو مرکب تھا بد رکاب
دونوں شریر سبز قدم خانماں خراب
اسم کیفیت : بد رکابی .
-
کبود چرخ دیکھا تو سواری کے نہیں قابل
مہ نو سے ہے پیدا عیب اس کی بد رکابی کا
فیلفوس اس ( گھوڑے ) کی سرکشی اور بد رکابی دیکھکر سوداگر پر بہت خفا ہوا.
(۱۸۸۴، قصص ہند، ۱: ۴۳ )
کچھ ایسے . . . تھے کہ بد رکابی کرتے کرتے لگے دولتیاں جھاڑنے.
(۱۹۰۷، امہات الامہ، ۸۸)
[ بد + رکاب ( رک ) ]
