سنیا جوں کہ ارمان بد دل ہوا
انے شرم ساری سوں واں تھے گیا
عوام الناس جو ہر حال میں علما کو اچھا سمجھتے ہیں ہم سے بد دل ہوجائیں گے .
(۱۹۲۴، احیاء ملت ، ۵۹)
کہیا اس کوں اے بد دل و بد سرشت
اتال چھوڑ توں اپنی توں خوے زشت
دیے جواب مالک کو یوں بھی علی
کہ اے پہلواں چھوڑ دے بد دلی
اس نے خان خاناں کو لکھا کہ اگر آپ اس لشکر سے مل جائینگے تو لشکر کی بد دلی کم ہوجائیگی.
(۱۸۹۷، تاریخ ہندوستان ، ۵: ۲۲۹)
کئی سال پیشتر سے انگریز حکومت کے خلاف بددلی پھیل رہی تھی.
(۱۹۲۵، غدر کی صبح و شام ، ۱۵ )
[ بد + دل (رک) ]
