بد چلن ( عیار ) ، بیکار گنڈ طوروں کے ساتھ مت بیٹھ .
(۱۷۴۶؟ ، قصۂ مہر افروز و دلبر، ۳۶۵)
یہ آکے کہے گی کیا سڑن ہے
وہ جا کے کہے گی بدچلن ہے
ایک ادنیٰ خاندان کی غریب بدقسمت و ملا ـ ـ ـ کسی طرح بدچلن طوائف نہ تھی .
(۱۹۲۶، شرر، درگیش نندنی ، ۱۳۲)
اسم کیفیت : بدچلنی .
-
حنظل سمدھی کی آمد کی خبر سنکر گھبرا گئی کس لیے کہ ـ ـ ـ ایسا نہ ہو کچھ حال اس ( لڑکی ) کی بدچلنی کا سن لے .
(۱۸۸۲، طلسم ہوشربا ، ۱: ۶۵۳ )
ہم . . . بدکاری اور بدچلنی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے .
(۱۹۴۳، سیدہ کی بیٹی ، ۶۳ )
[ بد + چلن (رک) ]
