شرمندگی میں لالہ بد رنگ ہو پھرا تھا
ہو مہرباں انوں نے لب کی دیاں ہیں لالیاں
بد رنگ نہ رنگ عشق کا ہو
کیا نہیں آڑ کے جو ہوا ہو
ٹینی بد رنگ کو کہتے ہیں اور اصیل خوش رنگ کو.
( ۱۸۸۳، صیدگاہ شوکتی ، ۲۱۰ )
بد رنگ ہے اب دل کی حالت
سمجھی نہیں جاتی اوس کی مت
ملا صاحب اس کی باقوں کو جس طرح چاہیں بد رنگ کر کے دکھائیں ، وہ حقیقت میں اسلام کا منگر بھی نہ تھا .
(۱۸۸۳ ، دریار اکبری ، ۸۸ )
(ii) طسر کے کھلاڑیوں میں ایک ایک کھلاڑی کی گوٹوں میں سے وہ گوٹ جو رن٘گ نہ ہو .
( شید صاگر ، ۷ : ۳۳۷۳)
اب تک بساط دہر کی بازی کھلی نہیں
بدرنگ کیا ہے اور ہے رنگ اس چمن میں کیا
علم موسیقی میں وہ کمال یہم پنھچا یا کہ کبھی کسی نایک کے خیال میں نہ آتا تھا . . . پھلا پھولا جوان کا پیرو ہوا اور جس نے ڈھنگ جدا کیا وہ . . . بد رنگ ہوا .
(۱۸۲۵ ، فسانۂ عجائب ،۱۷ )
اسم کیفیت : بد رنگی .
[ بد + رنگ ( رک ) ]
