نام اس کا زال ہوا ، لوگوں کے نزدیک بدفال ہوا .
( ۱۸۴۶، سرور سلطانی، ۴۳ )
اسم کیفیت : بدفالی .
-
کوئی افسوں یعقوب پر نہیں چلتا کوئی بدفالی اسرائیل کے برخلاف نہیں.
( ۱۸۲۲، موسیٰ کی توریت مقدس، ۶۲۳ )
میں نہیں جانتا کس وجہ سے میرے دل میں بدفالی پیدا ہورہی تھی.
( ۱۹۴۴، ایرانی افسانے، ۱۶۹ )
[ بد + فال ( رک ) ]
