وہ جو رشک مہ کبھی اس راہ سے نکلا نہ میر
ہم نہ رکھتے تھے ستارہ یعنی بد اختر ہیں ہم
آدھر ناکام عقبیٰ میں ادھر مردود دنیا میں
اگرچہ سعد کا بیٹا مگر منحوس و بد اختر
یہی کہتا تھا گھبرا کر فلک سے
کہ او بے مہر بد اختر کمینے
شاید اسے بوسیدہ و پارینہ سمجھ کر
عریاں نہ کرے لاش مری کوئی بد اختر
ہور غیر کو اس کی دختر ہے، بد اختر ہے ۔۔۔ اسے بی خوب قلب جاگے میں قید کر کر آ.
(۱۶۳۵، سب رس ، ۲۷۱)
اپنی دختر بد اختر کو قتل کرنا .
(۱۸۹۶، اھل نامہ ، ۱: ۴۸۴)
اسم کیفیت : بداختری .
-
تو اس بد اختراں سوں نکو ہم نشیں ہو
دکھلاے بن دسے نہ او اپنی بد اختری
کھلی زنگئی شب کی بد اختری
ہوا جلوہ گر خسرو خاوری
[ بد + اختر (رک) ]
