جب یہ احوال نا امیدی کا سنا، ایسی بدحواس ہوگئی گویا مجھ پر قیامت ٹوٹی .
(۱۸۰۲، باغ و بہار، ۵۰)
رقیب سے سر محفل کلام ہوتے ہیں
سمجھ لیا ہے ستمگر نے بدحواس مجھے
اسم کیفیت : بدحواسی .
-
مدعی مدعا علیہ کو اضطراب ہے، بدحواسی ہے
(۱۸۶۱، فسانۂ عبرت ، ۵۱)
ذرا سے شور و غل پر مدینہ میں بدحواسی پھیل جاتی تھی.
(۱۹۲۳، سیرۃ النبی ، ۳: ۵۳۸ )
[ بد + حواس (رک) ]
