یتاتن اتھا پاک صاف ہور پنوار
کہ ہاتاں پھسلتے تھے بے اختیار
جبکہ پہلو سے یار اٹھتا ہے
درد بے اختیار اٹھتا ہے
ان کا دل بے اختیار گواہی دینے لگا کہ ایسا نورانی اور متبرک چہرہ کسی جھوٹے مکار کا نہیں ہوسکتا.
(۱۹۱۹، جویاے حق ، شر ، ۳ : ۵۳)
میں دل کی خدمت گار ہوں ، دل منجے بیچے گا تو میں بے اختیار ہوں.
(۱۹۳۵، سب رس ، ۲۵۲)
شرارت اور فتنہ انگیزی میں بے اختیار تھا.
(۱۸۸۰، دربار اکبری ، ۲۰۸ )
امید ہے کہ اس میں میری عدم شرکت کو بے اختیاری سمجھ کے معاف کیجیے گا.
(۱۹۳۱، مرزا رسوا ، خورشید بہو ، ۱۰ )
[ بے + اختیار (رک) ]
