واقعیت یہ ہے کہ زور کا محسوس ہونا ایک بے ٹھکانے بات ہے، ہم ہر گز اپنے جسمانی زور سے ہلکے پھلکے وزنوں کا اندازہ کرکے مقابلہ نہیں کرسکتے.
(۱۹۰۰ ، غربی طبیعیات کی ابجد ، ۲۹۷ )
دن رات بے ٹھاکنے کھائے چلا جاتا ہے ، اس کے بعد اس کی بھوک مر جاتی ہے.
(۱۹۰۶ ، ماہنامہ 'مخزن' ستمبر ، ۴۶ )
ارے بے باک کیا کہنا ہے تیرے اس اشارے کا
ٹھکانا بے ٹھکانے کا سہارا بے سہارے کا
دنیا ہے کتنی بے ٹھکانے
عاشق کی برات ہوگئی ہے
تم میرے اصل باپ ہو تم آئو اور میرے بے ٹھکانے دل کو سہارا دو
(۱۹۱۶ میلاد نامہ ، حسن نظامی ، ۱۸ )
[ بے + ٹھکانے ، ٹھکانا (رک) کی محرفہ شکل ]
