( لفظاً ) بے استادا ، جس کا کوئی مرشد یا رہنما نہ ہو ( مراداً )ظالم، بدذات ، بے ایمان ، بداعتقاد.
جز الم اس کون نہ ہووے حاصل
عشق بے پیر کوں جو پیر کیا
(۱۷۰۷، ولی ، ک ، ۵۱)
عشق کمبخت بے پیر ہے
( ۱۸۲۲ ، فسانہْ عجائب ، ۲۷ )
بے پیر چلے آتے تھے کھینچے ہوئے شمشیر
چلّاتا تھا خولی نہ کرو قتل میں تاخیر
(۱۹۲۷، شاد عظیم آبادی ، مراثی ، ۲ : ۹۳ )
[ بے + پیر (رک) ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .