یتی بے ادب کر نکو جان منج
کہ میں داس تیری ہوں توں مان منج
خلیفہ مصر کے حکم سے ایک بے ادب کو کھڑا کرکے کوڑے مار رہے تھے.
(۱۸۰۲، گنج خوبی، ۱۴)
حاجب درگاہ رہتے ہیں سلاطیں سربکف
واجب التعظیم ہے اے بے ادب سرکار حسن
انوں سوں بے ادبی سوں پیش آنا نابود کی نشانی ہے.
(۱۶۳۸، سب رس ، ۲۱)
آرام مجھے دن کو نہ دیتے ہو نہ شب کو
کیا کہیے تمہیں حضرت دل بے ادبی ہے
اے شیخ قدم چھوڑیں گے ہم پیر مغاں کے
یہ بے ادبی قبلہؑ حاجات نہ ہوگی
[ بے + ادب (رک) ]
