بنا پر اس کے وہ قلعہ بے لگائو اور محفوظ ہے.
(۱۸۰۵ ، آرائش محفل ، افسوس ، ۲۱۹)
مضامین عشقیہ ایسے نہ ہوں کہ معشوقان بازاری کی طرف محمول کیے جاسکیں فسق و فجرر سے تمام تر بے لگاو ہوں .
(۱۸۹۷ ، کاشف الحقائق ، ۲ : ۴۴)
دونوں سے بے لگاو ہو کر امور اصلاح طلب کی ایک فہرست تیار کی.
(۱۸۸۳ ، دربار اکبری ، ۸۰۷)
