اوے جواب سے نفرت مجھے سوال سے ننگ
وہ بے دین ہے خموشی سے بے زباں ہوں میں
غریب بچی بے زبان ہے، سخت سے سخت تکلیف میں اُف کرنے والی نہیں.
(۱۹۲۹، وداع خاتون ، راشد الخیری ، ۶ )
دو دن سے بے زباں پہ جو تھا آب و دانہ بند
دریا کو ہنہنا کے لگا دیکھنے سمند
اس بے زبان پر تو پھول کی چھڑیاں نہ برسائو.
(۱۹۵۴، شاید کہ بہار آئی ، ۶ )
کیوں عزیز اس بے کسی میں کون سی تاثیر تھی
بے زباں بچے چلے ہیں تیر کھانے کے لیے
اسم کیفیت : بے زبانی .
(۱۹۲۶ ، صحیفہؑ ولا ، عزیز لکھنوی ، ۴۰۱ )
سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے کفن سرکائو میری بے زبانی دیکھتے جائو
(۱۹۴۱ ، فانی ، د ، ۱۷۰ )
[ بے + زبان (رک) ]
