طمع میں حور جناں کی ہے طاعت زاہد
دلا جہاں میں تمہیں ہے کوئی بشر بے لوث
بے لوث محبت ہے جسے ملک سے اپنے
وہ برہنہ پا خسرو بے تاج و نگیں ہے
نقاد کا سب سے پہلا فرض بے لوث ہونا ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ زیر تنقید تصنیف پر مکمل طور پر عبور حاصل کرے.
(۱۹۳۳، نقد الادب ، ۱۰ )
وصال میں بھی لگانے نہ دیا ہاتھ مجھے
وہ رشک یوسف کنماں ہے کس قدر بے لوث
یہ آپ کا وہم ہے آپ اس حادثے میں بالکل بے لوث ہیں .
(۱۹۱۴ ، راج دلاری ، ۱۵۶)
[ بے + لوث (رک) ]
