بے ساختہ عجب تھا اس کا عالم
(۱۸۰۲، نثر بے نظیر ، بہادر علی حسینی ، ۹۱ )
لیکن اسلام ہم کو ایسے واقعات بتا رہا ہے کہ بے ساختہ ان نیک اور پاک بندوں پر دل سے دعا نکلتی ہے.
( ۱۹۳۶ ، راشد الخیری ، نالہ زار ، ۱۶ )
اسم کیفیت: بے ساختگی
(۱۹۳۶، راشد الخیری ، نالہ زار ، ۱۶ )
صنائع لفظی کے اتنے الزام پر بے ساختگی اور قابل آفریں ہے.
(۱۸۷۷ ، توبۃ النصوح ۲۵۱ )
آپ کو خیر بے ساختگی میں یا گھبرا کر ، معاف کیجئے گا کہہ ہی دیں گے .
(۱۹۳۸، بحر تبسم ، ۱۹۲۹ )
[ بے + ف : ساختہ ، ساختن (= بنانا) سے ]
