وصل بھی ہوگا حسن تو ٹک تو استقلال کر
حال اپنا ہم سے کہہ کہہ ہم کو مت بے حال کر
یہ کھانا کتے کو دیا ایک پہر تک یہ کتا بے حال رہا.
(۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۳ : ۱۰۰)
پندرہ روز تک بخار نہ اترا کمزور پہلے ہی سے تھی اور بے حال ہوگئی.
(۱۹۳۶ ، راشد الخیری ، حیات صالحہ ، ۱۳۳)
کچھ عورتوں کے گانے پر نہیں دن کو مردوں نے گایا تھا جب بھی میں بے حال ہوگیا تھا.
(۱۸۹۳ ، نشتر ، ۳۳)
غریبی ہے غریبی کی ہیی پمالیاں بی ہیں پہی نالے ، ہیی آیہں ہیی ہے خالیاں بھی ہیں ،
( ۱۹۲۳ ، اسرار ، علی اختر ، ۹۸ )
[ بے + حال (رک) ]
