بے تال ہوئے شیخ جو ٹک وجد میں آکر
سرگرشیوں میں مّد اصولی کا بیاں ہے
سرمحفل بٹھا کر چاہنے والوں کو رلوایا
نیا گانا نکالا آپ نے بے تال و بے سر کا
قلم اس طور پر رقص کرتا ہے کہ کہیں سے بقول خیال بے تالا نہیں ہوتا.
(۱۹۳۴، داستان عجم ، ۶)
[ بے + تال (رک) / + ۱ : ۱ ، لاحقہؑ صفت ]
