کہن سال کا جوں ہوا خالی مغز
نہیں بات بے مغز کی اچھتی نغز
زاہد بے مغز گو ہوگی نہ کیفیت نصیب
جام مے کیا گرچہ اس کو جام جم دیدیں گے ہم
مرغ نے کہا ہمارا مالک تہی از خود و بے مغز و ناتجرہ کار ہے .
(۱۹۰۱ ، الف لیلہ ، سرشاد ، ۲۲)
مدرسے کی تعلیم بے مغز و بے روح ہوجاتی ہے .
(۱۹۳۵، اصول تعلیم ، ۲۹۳)
عالی ہے دماغ ایسے تو بے مغز نہیں ہم
جو نے کی طرح نالہ و فریاد کریں گے
ہوا رباب رگاں خشک و استخواں بے مغز
یہ حال دیکھ کے مجلس میں دنگ ہے مردنگ
ہوا حر باندھتے اس قازم فنا میں ہیں حباب وار وہ بے مغز کس ہوا میں ہیں
(۱۸۴۹ ، کلیات ظفر ، ۲ : ۷۹)
[ بے + مغز (رک) ]
