ہر ایک جواہر اس کا آبدار ، بے جرم و بیش قیمت ہے.
(۱۷۴۶ قصہؑ مہر افروز و دلبر ، ۱۷۱ )
یہ پتھر اتنا بڑا بے جرم مکرانہ کی دکان سے نکلا.
(۱۸۴۶ آثائ الصّنا دید ، ۴۵ )
پھر اس کی بے جرم مر مر کی دیواریں ...... مل کر ایسا خوبصورت مجموعہ بناتے ہیں.
(۱۹۳۱ اسلامی فن تعمیر ، ۱۵۶ )
[ بے + جَرم (رک) ]
