شہر کے باہر تنبو ، قنات اور بے چوبے اور سرا پردے اور کندلے کھڑے کروا کر ان میں داخل ہوا.
(۱۸۰۲ باغ و بہار ، ۹۲۹ )
یکبارگی ایک بے چوبہ خیمہ دیکھا جس کا شمسہ آفتاب فلک چہارم سے بھی زیادہ روشن.
(۱۹۱۵ ، سجاد حسین ، پیاری دنیا ، ۷ )
[ بے + چوب (رک) + ف : ہ ، لاحقہؑ صفت ]
