بے کس و ناکس ہوں میں کس سے کروں پیرت کی بات
میرے روں روں خط کیوں پڑتا ہے تمارا دل دبیر
بیکس رہیں گے حشر میں کب مجرمان عشق
رحمت کہے گی ہم ہیں گنہ گار کی طرف
آپ کی بدنصیب رانڈ امتا ، پردیس میں بے کس و بے بس پڑی ہے کوئی پرسان حال نہیں.
(۱۹۱۲ ، سی پارہؑ دل ، ۱ : ۲۴ )
غریب عاجز جفا کے مارے فقیر بیکس گدا تمہارے
سووے ستم میں مرے بیچارے اگر جو ان پر کرم نہ کیجیے
جلتی ہوئی زمین پر تڑپنے لگے امام
بیکس پہ ظالموں نے کیا اور اژدہام
حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل
محبت پر مگر مجبور ہے دل
اسم کیفیت : بیکسی
(۱۹۴۶ ، طیور آوارہ، ۲۹)
بے کسی کو عبث کیا بے کس
قتل کر مجھ کو کیا لیا تو نیں
پائوں جنت میں نہ رکھا تھا کہ نکلی تن سے روح
بیکسی نے رو دیا منھ دیکھ کر شداد کا
صاف شفاف خوبصورت مینہ بے قراری اور بے کسی میں کھلا رہ گیا تھا.
(۱۹۵۶ ، شیخ نیازی ، ۳۳)
[ بے + کس (رک) ]
