پیر طریقت اب ہوئی یکتائی آپ کی
بے وحدت اس سے پہلے ہر اک خانوادہ تھا
دشت میں اپنے جو آیا قیس وحشت نے کہا
چل بے بے وحدت پرے کیوں یاں تو لگایا بسترا
اپنی للّو کو روکیے اس بے وحدت زبان میں لگام دیجیے.
(۱۹۰۲ ، آفتاب شجاعت ، ۱ ، ۵ ، ۶۴ )
[ بے + وحدت (رک) ]
