آوارہ وطن ، خاندان برباد ، جس کے گھر در نہ ہو ، نگھرا
ہر دل میں رہتے ہیں مگر آتے نہیں نظر
ہر جائی آپ کیوں ہیں اگر بے گھرے نہیں
( ۱۸۵۲، کلیات منیر، ۲ : ۴۳۶)
عیشق نے ہم کو بے گھرا تو کیا
اور عالی جناب کیا کرتے ہیں
(۱۹۵۴، صفی ، فردوس صفی، ۱۵۷)
[ بے + گھر (رک) + ۱ : ۱ ، لاحقہؑ صفت مذکر ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .