جو بے زبان بولتا وہ تو بے چون بے چگون ہے ، بے شبہ بے نمون ہے.
(۱۶۳۵ سب رس ، ۱۰۸ )
بے چون و بے چگون ہے بے شبہ ذات تیری واحد احد صمد ہے اللہ نام تیرا
(۱۸۹۲ ، مہتاب داغ ، ۲ )
صائع بے چون و بے چگون نے موالید ثلاچہ جمادات و نباتات و حیوانات میں سے ہر مخلوق کو ابقاے نفس کی صلاحیت دی ہے.
(۱۹۰۶ ، الحقوق والفرائض ، ۳ : ۹ )
