کوئی شتاب خبر لو کہ بے نمک ہے بہار
چمن کے بیچ دوانوں کا اب کے شور نہیں
یہ کہہ کر کنیزوں کو اشارہ کیا ارے صحبت بے نمک کیوں ہے ، فیروز ، شراب و کباب کا سامان کیوں نہیں کیال.
(۱۹۰۱ ، قمر ، طلسم ہوش ربا، ۷ : ۲۴ )
بے نمک آدمی ہو تم یہ مزا کیا جانو ابھی کم سن ہو بہت نام خدا کیا جانو
(۱۸۶۸، واسوخت سحر (شعلہؑ جوالہ ، ۲ : ۵۰۸ )
اسم کیفیت : بے نمکی.
(۱۸۶۸ ، واسوخت سحر (شعلہؑ جوالہ ، ۲ : ۵۰۸ )
ان کے پھچلے لکچر اس قدر پھیکے اور یہ مزہ ہوئے ہیں کہ آج تک بے نمکی بھولی نہیں ہے.
(۱۹۰۶ ، افادات مہدی ، ۹۴)
[ بے + نمک (رک) ]
