وہ پانی سخت بے مزہ اور بدبودار تھا.
(۱۸۰۲ ، گنج خوبی ، ۲۸ )
حسن نمکیں کو لے کے چاٹیں
جب اپنی ہی زیست بے مزہ ہو
ارباب زمانہ کی خود غرضیاں اور بے اعتنائیاں بے مزہ کردیئیں.
(۱۹۱۵ ، سجاد حسین، کائنات، ۵۴)
خدانخواستہ طبیعت اشرف کسو سبب سے بے مزہ ہوجائے.
(۱۸۰۲، گنج خوبی ، ۲۰۶)
آنکھ ملاتا نہیں ان دنوں وہ شوخ ٹک
بے مزہ ہے ہم سے یار دیکھیے کب تک رہے
اسم کیفیت: بے مزگی.
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۶۰۴)
اس بے مزگی میں تو جو آجائے
کیا کیا نہ ابھی مزہ ہو تجھ سے
غم خانہ دنیا میں ہے جینے کا مزا ہیچ
اس بے مزگی میں کوئی جیتا ہے تو کیا ہیچ
مگر بے مزگی طبیعت سے جواب نہ دے سکا عفو کا خواستگار ہوں.
(۱۹۰۰ ، امیر منیائی ، مکاتیب ، ۱۲۹ )
[ بے + مزہ (رک) ]
