جب دیکھتے ہو مجکو محفل میں اپنی بیٹھا
پھر پھر کے بیٹھتے ہو تم آن آن بے رخ
بات کرے نہیں وہ رخ دے کر
اس قدر ہم سے ہوگئے بے رخ
طوے کی طرح آنکھیں بدل لیتے تھے اور ایسے بے رخ ہوتے تھے گویا پہلے ان کو کچھ تعلق ہی نہ تھا.
(۱۹۱۷، یزید نامہ، ۳۰ )
ف : ہونا [ بے + رخ (رک) ]
