کہو جا کر خدا کے واسطے بخشو گناہ اس کا
نہ ہو بے آبرو بندہ ترا یہ التماسی ہے
دندان یار کھلتے ہیں ہنسنے میں بیشتر
بے آبرو کریں گے یہ دٌر خوشاب کو
مآل زندگی ہے عشق میں بے آبرو ہونا
مبارک حضرت دل، فول ہونا، ڈیم یو ہونا
آبرو کا صدقہ جان کو تصور کرتے ہیں اور بے آبروئی سے مرجانا کہیں بہتر ہے.
(۱۸۹۰، بوستان خیال ، ۶ : ۷۶۳ )
[ بے + آبرو (رک) ]
