فوجدار کو خوف معلوم ہوا کہ مبادا بدھو کچھ بیہودہ بک دے، بے تکا تو بئی ہے اور ان کو ذلیل ہونا پڑے.
(۱۸۹۲، خدائی فوجدار ، ۲ : ۹)
یہ بھی ان سے بے تکے سلوا کرتے.
(۱۹۳۵، چند ہمعصر ، ۲۰۶ )
[ بے + تُک (رک) + ۱ : ۱ ، لاحقہؑ صفت ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .