اوقات اب بتوں کے تعشق میں وادریغ
بے صرفہ صرف کی بہ خدا رائگاں ملاذ
بے صرفہ ہی گزرتی ہے ہو گرچہ عمر خضر
حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیسے
فراق یار میں بے صرفہ غم کھانے سے کیا ہوگا
اگر مر بھی گئے اب ہم تو مرجانے سے کیا ہوگا
ہجوم مردم کے وقت کلمات بے صرفہ زبان پر بہت جاری ہوتے ہیں
(۱۸۴۶ تذکرہؑ اہل دہلی ، ۴۴)
میں حال سکوت میں سنتا رہا بغور
اس یا وہ گو کی ہرزہ و بے صرفہ داستاں
[ بے + صرفہ (رک) ]
