مجھے آتا ہے رونا اپنی تنہائی پر اے تابان
ہوا ہوں عشق میں بے خانماں چھوٹا وطن میرا
بے خانماں ہو کر روز شب گریاں تھیں.
(۱۸۵۱، عجائب القصص (ترجمہ) ، ۵۷۱ )ٖ
انھیں شکوک و اوہام اور انہیں روحانی بے اطمینانیوں نے اسے بے خانماں کیا.
(۱۹۱۷ ، جوپاے حق ، ۱ : ۵۶ )
اسم کیفیت : بے خانمانی.
( ۱۹۱۷ ، جوپاے حق ، ۱ : ۵۶ )
ہدا وحشت فزا درد نہانی
ٹھکانے لگ گئی ہے بے خانمانی
[ بے + ف : خانماں (= گھر بار) ]
