خود بے خود ہوے تو خدا کرں پائے
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۲۰ )
کوئی غش میں کوئی زمین پر پڑی
کوئی اپنی حالت میں بے خود کھڑی
ملنے کے دن جب یاد آتے ہیں سدھ بدھ بھولے جاتے ہیں
بے خود ہوجاتے ہیں ہم تو دیر بخود پھر آتے ہیں
کفار اس منظر کو دیکھ کر ہنسی سے بیخود ہوئے جاتے تھے.
(۱۹۲۳ ، سیرۃ النبی ، ۳ : ۲۷۵ )
اسم کیفیت : بیخودی.
(۱۹۲۳، سیرۃ النبی ، ۳ : ۲۷۵ )
ہر قوم کی یک جدی عبادت
درویش کوں بے خودی عبادت
بے خودی لے گئی کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا
خود دار آپ یوں ہیں کہ رسوا نہ ہوں مگر
مجبور ہو نہ جائیں کہیں بے خودی سے ہم
[ بے + خود (رک) ]
