راے بابل کی بیٹی کی اور اوس کی آنکھ چار ہوگئی .
(۱۸۴۵، حکایت سخن سنج ، ۱۰۶)
اب جو اس نے سر اٹھایا اور آنکھ چار ہوئی سیارہ نے پہچان لیا کہ یہ تو شہر یار عالی وقار ہیں .
(۱۹۰۲، آفتاب شجاعت ، ۱ : ۵۹۱)
ہلین سے چار آنکھیں ہوتے ہی فلورنڈا نے آنکھیں نیچی کر لیں .
(۱۸۹۶، فلورا فلورنڈا ، شرر ، ۴۲۶)
