آنکھ میں آنکھ تو ڈالی نہیں جاتی ظالم
دل میں دل ڈال دے کس طرح سے انساں کوئی
قصور پر شرماتا نہیں الٹے آنکھ میں آنکھ ڈال کر مجھ کو قائل کرنا چاہتا ہے .
(۱۹۲۴، نوراللغات ، ۱ : ۱۶۹)
چلا کر بولنا دوڑ کر چلنا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی . . . ایسی ایسی باتوں سے روکتیں .
(۱۸۷۵، مجالس النسا ، ۱ : ۳۲)
دیوانہ وار دوڑ کے کوئی لپٹ نہ جائے
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجیے
